اہم خبریںبین الاقوامی

انڈیا کی سپریم کورٹ نے زنا کو جرم کے دائرے سے خارج کر دیا

انڈیا کی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے ملک میں زنا کو جرم کے دائرے سے خارج کر دیا ہے۔

عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی بنچ نے کہا کہ دستور ہند کی دفعہ 497، جس کے تحت کسی شادی شدہ عورت کے ساتھ کسی مرد کے جنسی تعلقات کو جرم تو مانا جاتا تھا لیکن سزا صرف مرد کو ہی دی جاسکتی تھی، آئین کے منافی ہے۔

اس قانون میں عورتوں کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کی گنجائش نہیں تھی

نامہ نگار سہیل حلیم نے بتایا کہ اب دو بالغوں کے درمیان جنسی تعلق، بشرطیکہ اس میں دونوں کی مرضی شامل ہو، جرم نہیں مانا جائے گا چاہے وہ دونوں شادی شدہ ہی کیوں نہ ہوں۔ لیکن پہلے کی طرح طلاق حاصل کرنے کے لیے زنا کو بنیاد بنایا جاسکے گا۔

عدالت نے کہا کہ عورت کو مرد کی ملکیت نہیں مانا جاسکتا اور آج کے دور میں اس طرح کے فرسودہ قانون کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

اس قانون کے تحت جرم صرف اسی حالت میں تصور کیا جاتا تھا جب جنسی تعلق میں عورت کے شوہر کی مرضی شامل نہ ہو۔

چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے کہا کہ یہ قانون دستور کے آرٹیکل 14 اور 21 کے منافی ہے جو زندگی، آزادی اور مساوات کے حق کی ضمانت دیتے ہیں۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker