اہم خبریںقومی

وزیراعظم کی زیر صدارت تاریخی و سرکاری عمارتوں کے مثبت استعمال کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس کا انعقاد،بڑا اعلان کردیاگیا،نئی تاریخ رقم

وزیراعظم عمران خان نے چیف سیکرٹری پنجاب کو گورنمنٹ ہاؤس کشمیر پوائنٹ مری کو جلد از جلد جدید سہولتوں سے آراستہ ہوٹل بنانے ،گورنر ہاؤس پنجاب کے باغات اورگراؤنڈز کو پبلک کیلئے کھولنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک اس وقت قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے،قرضوں کی قسطیں ادا کرنے کیلئے 6ارب روپیہ یومیہ ادا کرنا پڑ رہا ہے، اپنی ذمہ داری کو سمجھنا وقت کا تقاضا ہے،گورنر ہاؤسز سمیت تاریخی اور سرکاری عمارتوں کا مثبت استعمال یقینی بناناتحریک انصاف کے منشور کا اہم جزو ہے ، اس پر جلد عملدرآمد کو یقینی بنائینگے۔بدھ

کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت تاریخی اور سرکاری عمارتوں کے مثبت استعمال کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر برائے وفاقی تعلیم و قومی ورثہ شفقت محمود، چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر طارق بنوری، سیکرٹری خارجہ، سیکرٹری ہاوسنگ، سیکرٹری تعلیم، سیکرٹری قومی ورثہ، چیف سیکرٹری پنجاب، چیف سیکرٹری خیبر پختونخواہ، چیف سیکرٹری بلوچستان اور دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں گورنر ہاؤسز سمیت ملک بھر میں پھیلی حکومتی ملکیت کی تاریخی اور دیگر سرکاری عمارتوں کو برؤے کار لانے اور ان کو مختلف مقاصد کیلئے استعمال کیے جانے کے حوالے سے اب تک کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا ۔ اس موقع پر وزیر اعظم کو مختلف سرکاری عمارتوں کی دیکھ بھال اور مرمت پر سرکاری خزانے سے اٹھنے والے اخراجات کی تفصیل پیش کی ۔وزیراعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ چنبہ ہاؤس لاہور پر سالانہ ایک کروڑ کا خسارہ ہے،قصرِ ناز کراچی سالانہ دو کروڑ کے نقصان میں ہے۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ گورنمنٹ ہاؤس مری کی تزئین و آرائش کیلئے سابق حکومت کی جانب سے 60کروڑ خرچ کئے گئے تھے ۔ اجلاس میں مختلف عمارتوں کو برؤے کار لانے کے حوالے سے پلان پر تفصیلی گفتگوکی گئی۔وزیراعظم نے چیف سیکرٹری پنجاب کو گورنمنٹ ہاؤس کشمیر پوائنٹ مری کو جلد از جلد جدید سہولتوں سے آراستہ ہوٹل بنانے کی ہدایت کی ۔ اجلاس میں پنجاب ہاؤس پنڈی پوائنٹ مری کو یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔پنجاب ہاؤس اور گورنر ہاؤس انیکسی راولپنڈی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی پارک اور انکیوبیشن سنٹر بنانے کی تجویربھی اجلاس میں زیر غور آئی۔ گورنر ہاؤس لاہور کے استعمال کیلئے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا اور گورنر ہاؤس کے باغات اورگراؤنڈز کو پبلک کیلئے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ گورنر ہاؤس کی بیرونی دیوار کو مسمار کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ عمارت سے منسلک گرین ایریاز متاثر نہ ہو۔ وزیراعظم نے کہا کہ چنبہ ہاؤس لاہورجیسی مرکزی جگہ کواس انداز میں برؤے کار لایا جائے کہ جس سے آمدنی میسر آئے۔اجلاس میں نوے شاہراہ قائداعظمؒ کی عمارت کو کرافٹس میوزیم اور کانفرنس ہال میں تبدیل کرنے ،سٹیٹ گیسٹ ہاؤسز لاہور اور کراچی میں فائیو سٹار ہوٹل بنانے کی تجویز دی گئیجبکہ گورنر ہاوس پشاورکو خواتین کے مختص پارک اور میوزیم بنانے کی منظوری دی گئی ۔اجلاس میں گورنر ہاؤس نتھیا گلی کو بوتیک ہوٹل بنانے کیلئے استعمال میں لانے جبکہ 25ایکٹر پر محیط گورنر ہاؤس کوئٹہ میں بھی خواتین کے مختص پارک بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ گورنر ہاؤس کی تاریخی عمارت کو برؤے کار لانے کیلئے ماہرین سے تجاویز بھی طلب کی جائیں گی۔اجلاس کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب جانتے ہیں کہاس وقت ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ قرضوں کی قسطیں ادا کرنے کیلئے چھ ارب روپیہ یومیہ ادا کرنا پڑ رہا ہے۔قرضوں کی قسطوں کی ادائیگیوں کے لئے بھی قرضہ لینا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف یہ صورتحال ہے اور دوسری طرف حکومت کے پاس ایسے اثاثے ہیں جن کی دیکھ بھال کے لئے کروڑوں روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ انگریز حکومت کا مائنڈ سیٹ تھا کہ وہ محکوم عوام کے وسائل سے عالی شان عمارتیں بناتی تھی اورعوام کو ان سے دور رکھا جاتا تھا، ہمیں اس مائنڈ سیٹ کو تبدیل کر نا ہے، یہ ہماری ذمہ داری ہے اور وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم اپنی ذمہ داری سمجھیں۔ انہوں نے کہا کہ عالی شان گورنر ہاؤسز اور بڑی بڑی عمارتیں انگریز سامراج کا سمبل ہے اس سے بھی زیادہ یہ بے حسی کا سمبل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان عمارتوں اور ان میں شاہانہ انداز کو دیکھ کر عوام جہاں اپنی حکومتوں سے بدظن ہو جاتے ہیں وہاں ٹیکس کلچر فروغ نہیں پا سکتا۔ گورنر ہاؤسز سمیت تاریخی اور سرکاری عمارتوں کا مثبت استعمال یقینی بنانا تحریک انصاف کے منشور کا اہم جزو ہے اور حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عمل جلد از جلد مکمل ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ان عمارتوں کو عوام کے لئے کھولا جائے اور یہ عوام کی پہنچ میں ہوں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker